منی پال:۱۱/ستمبر (ایس او نیوز) موجودہ دور میں خبر اور جانکاری مخصوص لوگوں کی جائیداد نہ ہونے کی وجہ سے سماجی تبدیلی کے لئےمیڈیا شہری صحافت (سٹی زن جرنلزم )استعمال کرنے کا ملک کے صف اول کے صحافیوں میں سے ایک راج دیپ سردیسائی نے خیال ظاہر کیا۔
منی پال کے اسکول آف کمیونکشن کے زیرا ہتمام منی پال کے گنگوبائی ہانگل ہال میں منعقدہ ’’ سماجی تبدیلی میں رابطہ کار میڈیا ‘‘ نامی عنوان پر وہ اظہار خیال کررہے تھے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے موصوف نے کہاکہ ایک زمانے میں صحافی موضوع اور الفاظ کے تابع تھے ، لیکن آج صحافی یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس ہر ایک کا جواب ہے بقیہ لوگ صرف سوال کرسکتے ہیں، آج صحافی مختلف گروہوں میں بٹ جانے کی بات کہی۔ آج کل صحافیوں کو دیش پریمی۔ دیش دروہی، سکیولر۔جعلی(سیوڈو)سکیولر، روشن خیال ۔جعلی روشن خیال کے طورپر پہچانے جارہے ہیں، جس کے نتیجے میں سماجی تضادات عام صحافیوں کے اعتماد میں خلل پیدا ہونے کی تشویش کا اظہار کیا۔ کشیدگی کا شکار کشمیر مسئلہ کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے دیسائی نے کہاکہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور میڈیا میں شائع ہونے والے کشمیر کی تفصیل پیش کی ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کشمیر میں کیا ہورہاہے یہ نہ قاری جانتے ہیں اور دیکھنے والے۔ ایک سچے صحافی میں اپنے خیالات کوتھوپے بغیر دوسروں کی آواز کو جگہ دینے کی صلاحیت و جرأت ہوئی چاہئے۔ لیکن کشمیر جیسے سنگین مسئلہ کے متعلق ہم سفید وسیاہ کے طورپر نشر کررہے ہیں جو بہت ہی افسوس ناک ہے۔ مایوسی کے عالم میں رجائیت کو پیش کرتے ہوئے مقامی میڈیا کوتبدیلی کا ایجنٹ ہونا چاہئے۔ آج ہم 360ڈگری میڈیا کے دور میں ہیں،اگر ان کا استعمال حکمت کے ساتھ کرتے ہیں تو تبدیلی کے مسیحا بن کر ابھر نا ممکن ہوگا۔ پیڈ نیوز ایک حقیقت ہونے کے باوجود سماج نامی پیرامڈ کی چوٹی پر روشنی ڈالتے ہیں تو تبدیلی ہوگی ۔ میڈیا کے لئے انگریزوں کی رہین منت دیش دروہ اورہتک عزت مقدمات آج بھی ہراسانی کا سبب بنے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے میڈیا تفتیشی صحافت سے پیچھے ہٹ رہاہے۔ منی پال یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر رام داس پائی نے صدارت کی۔ سنڈیکیٹ بینک کے جی ایم ستیش کامت موجود تھے۔ ایس اؤسی یو کی ڈائرکٹر ڈاکٹر نندنی لکشمی کانت نے استقبال کیا، ڈاکٹر شوبھا نے شکریہ اداکیا۔